اقرأ روضۃ الاطفال — 1984ء سے قرآنی علوم اور عصری تعلیم کے امتزاج کی ایک پیش رو تعلیمی درسگاہ۔
شعبہ حفظ قرآن کریم
قرآنِ مجید کی حفاظت کا الٰہی وعدہ
قرآ ن کر یممیں ا للہ تبا ر ک و تعالیٰ کا ا رشاد ہے
﴿وَ لقََدْ ی سََرْناَ الْقُرْاٰنَ للِ ذِ كْرِ فهََلْ مِنْ مُ دَك رِ ﴾
(سورة القمر )
ترجمہ:
"اور ہم نے اس قرآن کو آسان کرد یا نصیحت حاصل کرنے کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟”
اس آیت مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم سمجھنے کے لیے نہایت آسان ہے۔ اس میں شک نہیں لیکن اس آسانی میں فہم و نصیحت حاصل کرنے کے ساتھ حفظ قرآن بھی شامل ہے، حفظ قرآن کو بھی اللہ تعالیٰ نے وہ اعجاز بخشا ہے جو دنیا کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہیں۔ دنیا کی کوئی بھی کتاب اتنی سہولت، کمال اور مہارت سے حفظ نہیں کی جاسکتی۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾
(سورۃ الحجر)
ترجمہ:
"بے شک ہم ہی نے قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں”۔
اس آیت میں جس حفاظت قرآن کا ذکر ہے اس سے مراد قرآن کی اکمل اور ابدی حفاظت ہے، یعنی الفاظ قرآن کی حفاظت، قرآن کریم کے مفہوم و معانی کی حفاظت، قرآن کریم کے احکام و مسائل کی حفاظت، قرآن کریم کے اسلوب اور دعوت و تبلیغ کی حفاظت وغیرہ وغیرہ۔
مسلمانوں اور حفظ قرآن کا تعلق
مسلمانوں کا حفظ قرآن کے ساتھ جو تعلق رہا ہے اور اسی جذبے کی وجہ سے بچپن میں قرآن یاد کرانے کا جو شوق مسلمانوں کے ہر طبقے میں پایا جاتا تھا وہ روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اس کے لیے کسی تاریخی شہادت کی حاجت نہیں۔ امیر وغریب اور متوسط ہر طبقے میں حفاظ قرآن کی ایک معقول تعداد موجود ہوتی تھی۔ گویا ماضی میں بھی مسلمانوں میں حفظ قرآن کا ایک عمومی رجحان تھا اور بچوں کی تعلیم کا آغاز ہی قرآن کریم کی تعلیم سے ہوتا تھا۔
اقرأ کا قیام
افسوس کہ برصغیر پر انگریز کے مسلط کردہ نظام تعلیم کی وجہ سے بتدریج یہ ذوق و شوق کم ہوتا چلا گیا اور قیام اقرأ کے وقت (سنہ 1984ء) اور اس سے قبل تو حالات اس سے کہیں زیادہ بدل چکے تھے۔
اس زبوں حالی پر امت کا حقیقی درد رکھنے والے حضرات مخلصین نہایت آزردہ و فکر مند تھے کہ ہماری نسل نو کا کیا بنے گا! وہ شب و روز دعائیں کر رہے تھے کہ اس امت خوابیدہ کو اپنے درخشاں ماضی اور اسلاف سے جوڑ کر اپنے حال و مستقبل کو روشن و تابناک بنانے کی توفیق عطا ہو۔ آخر اس سرگرمی کی کڑی ہیں، آہ و نیم شبی اور دعاء کے آخر اس سحر گاہی پر اللہ تعالیٰ کو توقیق عطا ہوئی سے اقرأ کا قیام عمل میں آیا، جس کا اولین ہدف اور اہم ترین مقصد ”حفظ قرآن کریم” تھا۔
شعبہ حفظ کی اہمیت
اگرچہ حفظ قرآن کا آغاز، تکمیل قاعدہ اور ناظرہ کی مناسب استعداد کے بعد ہی ہوتا ہے؛ لیکن شعبہ حفظ اقرأ روضۃ الاطفال کے بنیادی مقاصد قیام میں سے ایک اہم ترین مقصد ہے اور ادارے کے قواعد و ضوابط کے مطابق اقرأ میں داخلہ صرف انھی بچوں کو دیا جاتا ہے جو حفظ قرآن کا پختہ ارادہ رکھتے ہوں۔
حفظِ قرآن کے فروغ کے اقدامات
حفظ کا نصاب، حفظ کا معیار، اور حفظ کا طریقہ روز اول سے معروف چلا آ رہا ہے، اقرأ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی، لیکن چند اختراعات اور اقدامات ضروری ایسے ہیں جنھیں اقرأ نے ہی ترتیب دیا اور متعارف کرایا۔
تمہیدی شعبہ
عموماً حفظ کے مدارس میں براہ راست حفظ کا رجحان تھا۔ اور اب بھی ہے لیکن اقرأ میں براہ راست شعبہ حفظ میں داخلہ نہیں ملتا۔ جب تک بچہ/بچی شعبہ قاعدہ کا نصاب مکمل نہ کرلے۔ اگر طالب علم قاعدے کے لائق نہ ہو تو پہلے ”روضہ” میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ ان شعبوں میں مقرر نصاب کے ساتھ ساتھ طلبہ کو حفظ قرآن کے لیے ذہنی طور پر بھی تیار کیا جاتا ہے اور انھیں مدرسے کے نظم و ضبط کا عادی بنایا جاتا ہے۔
بچیوں کے لیے حفظ
ماضی میں مختلف اندیشوں کے پیش نظر بچیوں کو حفظ کرانے سے گریز کیا جاتا تھا، بعض علماء بھی منع فرماتے تھے، لیکن اقرأ کے پہلے صدر حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی نے واضح الفاظ میں بچیوں کو حفظ کرانے کی تائید کی اور بعد ازاں دیگر حضرات نے بھی بچیوں کے لیے بھی شعبہ حفظ کے قیام پر زور دیا۔ اب تو الحمدللہ حالات بدل چکے ہیں اور اقرأ میں طلبہ کے مقابلے میں طالبات کی تعداد بعض مقامات پر تو طلبہ سے نمایاں طور پر زیادہ ہے اور بعض خطوں میں تو حافظات کی تعداد حفاظ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ حفظ کی فضیلت میں بچے یا بچی کی تخصیص نہیں؛ بلکہ یہی بچیاں آگے چل کر نئی نسل کی آبیاری اور تربیت کرتی ہیں۔ لہٰذا ان کی گھٹی میں دین اور قرآن کا ہونا لازم ہے۔ رہا یہ اندیشہ کہ بچیاں قرآن بھول جائیں گی، تو یہ امکان تو بچوں میں بھی موجود ہے، تو کیا اس بناء پر بچوں کو بھی حفظ سے روک دیا جائے؟ یقیناً حفظ لازم تو نہیں لیکن حفظ کر کے اسے محفوظ رکھنا، یاد رکھنا لازم ہے اور یہ ضابطہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے یکساں ہے۔
مدارس کے اوقات
حفظ کے مدارس عموماً اقامتی ہواکرتے تھے، جہاں طلبہ شب و روز تعلیم میں مصروف عمل رہتے، ان کا قیام و طعام بھی وہیں ہوتا تھا۔ یہ قربانی نہ تو ہر طالب علم دے سکتا تھا اور نہ ہر ماں باپ میں اس کا حوصلہ تھا۔ ان دشواریوں کے پیش نظر اقرأ نے روزِ اول سے طے کیا کہ بچوں کو صبح سے دوپہر تک پڑھایا جائے گا، جس کے بعد طلبہ اپنے گھر واپس جاسکیں گے۔ والدین کی سہولت کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی کیا گیا۔ تاہم ٹرانسپورٹ کی تمام ذمے داری والدین اور ٹرانسپورٹر پر ہی عائد ہوگی۔
ہم سن اور ہم عمر بچوں کی کلاس
اقرأ میں رائج داخلے کے ضوابط کے تحت ہر شعبے میں عموماً ہم عمر اور ہم سن طلبہ/طالبات کی کلاس تشکیل پاتی ہیں۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی کلاس میں طلبہ/طالبات کے درمیان عمر اور درجے کا فرق نہ ہو۔
مار پیٹ سے اجتناب
مدارس اور مکاتب کے حوالے سے (صحیح یا غلط یہ معاملہ ہے) یہ شکایت عام رہی ہے کہ یہاں مار پیٹ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اقرأ نے اس شکایت کو پوری سنجیدگی سے دور کرنے کی کوشش کی اور مار پیٹ کے بغیر تعلیم وتربیت کا بیڑہ اٹھایا۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ اقرأ نے اپنے اس مقصد میں مکمل کامیابی حاصل کرلی لیکن یقیناً آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اقرأ کامیاب ہوگیا۔ الحمدللہ ہمیں اتنی کامیابی ضرور ملی ہے کہ "اب یہ تصور ختم ہوچکا ہے کہ مار پیٹ کے بغیر حفظ ممکن نہیں”۔ اس حوالے سے ہمارے اکابرین کی توجہات، دعائیں اور بر وقت سخت گرفت نے بنیادی اور موثر کردار ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین۔
آگاہی و رہنمائی
ہمارے اکابرین اور اساتذہ اپنے حلقہ تعارف میں اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اگر ہم اپنی نسل کو لادینیت کے مہلک اثرات سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کے شب و روز میں دینِ اسلام اور قرآن کریم کی تعلیمات کو شامل کرنا گزیر ہے۔
- قرآن کریم کے حفظ کی نعمت کو عام کریں، بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو بھی اس مہم سعادت سے بہرہ مند کریں۔
- حفظ قرآن کے نور سے ذہن کے درچے واہوتے ہیں، جس سے دینی اور دنیاوی علوم کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔ (جس کا مشاہدہ عام ہے)
- حفظ قرآن میں صرف ہونے والا وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر ترتیب مناسب ہو تو حفظ کرنے والے طلبہ و طالبات بھی اسی عمر میں میٹرک کرلیتے ہیں جس عمر میں غیر حافظ بچے کرتے ہیں۔ جب کہ حافظ طلبہ/طالبات میٹرک کے ساتھ حفظ کی برکات سے بھی مالا مال ہوتے ہیں؛ (ماشاءاللہ) (وفاق المدارس اور عصری تعلیمی بورڈ کے نتائج اس پر شاہد عدل ہیں)۔
حفظ قرآن کے لیے باضابطہ ایک مکمل نظام
ماہرین تعلیم، تجربہ کار اساتذہ اور قراء کرام کی آراء اور عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حفظ قرآن کے ایک جامع اور مربوط نظام کی تشکیل کی گئی ہے جس کی خدو خال درج ذیل ہیں:
الحمدللہ، آج ملک بھر میں اقرأ کی 200 سے زائد شاخیں اس منظم تعلیمی نظام کے مطابق قرآن کریم کی تعلیم و حفظ کا مقدس فریضہ ادا کر رہی ہیں۔ مختلف علاقوں سے اپنے علاقوں میں اقرأ کی شاخیں قائم کرنے کی درخواستیں بھی موصول ہو رہی ہیں تاکہ وہاں کے بچے اور بچیاں بھی اس بابرکت درسگاہ سے فیضیاب ہوسکیں۔
