اقرأروضتہ الاطفال کا ایک ذیلی شعبہ قاعدہ بھی ہے .برصغیر پاک و ہند میں مسلمان بچوں کی تعلیم کا آغاز روایتی طور پر قاعدہ سے ہوا کرتا تھا،چاہے وہ بغدادی قاعدہ ہو یا یسرنا القرآن ہو،نورانی قاعدہ ہو یا کوئی اور قاعدہ ؛لیکن سب کی بنیاد یہی حروف ہجا ہوا کرتے تھے اور مقصد بھی ایک ہی ہوا کرتا تھا کہ بچے کو قرآنی حروف و الفاظ کی شناخت بھی ہوجائے،اعراب(حرکات و سکون وغیرہ)کو بھی سمجھ لے اور حروف و اعراب کو ملا کر ہجہ کرنے، پھر قرآن رواں پڑھنے کے قابل ہو جائے، اور بتدریج قرآن کریم ناظرہ (دیکھ کر)پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔تجوید کے مطابق پڑھنا ضروری ہے، لیکن معدودے چند اساتذہ و معلمات کے علاوہ اکثریت حافظ جی یا بڑی بی کی شکل میں قاعدہ و ناظرہ پڑھانے والے خود بھی تجوید سے نا آشناہی ہوا کرتے تھے۔
اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے نورانی قاعدہ کے مؤلف حضرت قاری نور محمد لدھیانوی صاحب اور اس کے حضرت قاری فتح محمد صاحب پر جنہوں نے تجوید کی اہمیت کی وجہ سے قاعدہ پر خصوصی توجہ دی اور طریقہ تعلیم کے لئے بھی بہترین رہنمائی فرمائی ۔بعد میں بھی بہت سے حضرات نے قابل قدر خدمات انجام دیں ۔محشی اقرأقاعدہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔
